27 ستمبر، 2026، 1:07 PM

اقوامِ متحدہ میں ایرانی عوام کی مظلومیت اور امریکی صیہونی جارحیت کی نشاندہی کی، پزشکیان

اقوامِ متحدہ میں ایرانی عوام کی مظلومیت اور امریکی صیہونی جارحیت کی نشاندہی کی، پزشکیان

ایرانی صدر نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی تقریر اور تمام ملاقاتوں میں ایرانی عوام کی مظلومیت اور امریکیوں و صیہونیوں کے جرائم کی نشاندہی کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت اور خطاب کے لیے نیویارک کے اپنے دورے کے اختتام پر کہا کہ امریکی صدر نے اس اجلاس میں ایسی باتیں کیں جو خود ان کے شایانِ شان تھیں، اس لیے ان بیانات نے کسی حد تک ہماری سوچ اور جواب کا انداز تبدیل کر دیا۔ ہم نے جنرل اسمبلی میں اپنی استطاعت کے مطابق ایران، اپنے عقائد اور نظریات کا دفاع کیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اجلاس کے بعد بھی مختلف ممالک کے حکام کے ساتھ ہماری ملاقاتیں ہوئیں، جن میں سوئٹزرلینڈ کے صدر، ناروے کے وزیراعظم، بنگلہ دیش کے صدر، یورپی کونسل کے صدر، لبنان کے وزیراعظم، نیدرلینڈز، پاکستان، آرمینیا اور قطر کے حکام کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل شامل تھے۔

انہوں نے فاکس نیوز، سی بی ایس اور الجزیرہ کے تین نیوز نیٹ ورکس کو دیے گئے اپنے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ ہم نے اہم امریکی میڈیا اداروں کے مدیران سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اسی طرح امریکی تھنک ٹینکس اور دانشوروں کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی، جبکہ امریکہ میں مقیم ایرانیوں اور ایران کے بعض دانشوروں سے بھی ملاقات کی۔ یہ ایک اچھی ملاقات تھی اور ماحول بھی دوستانہ تھا۔ پورے امریکہ سے ایرانی اس میں شریک ہوئے تھے۔

پزشکیان نے کہا کہ ہم نے تمام ملاقاتوں اور گفتگو میں ایرانی عوام کی مظلومیت اور امریکیوں و صیہونیوں کے جرائم کی نشاندہی کی۔ امریکہ دنیا بھر میں بہت سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی سرپرستی کرتا ہے اور دہشت گردوں کو تربیت دیتا ہے۔ اسرائیل بھی ایک ایسی حکومت ہے جو امریکہ کی حمایت سے دنیا کے مختلف مقامات پر لوگوں کو قتل کرتی ہے اور آخر میں کہتی ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام اور مغربی ایشیاء کے لوگ ان کی بے وفائی اور طاقت کے زور پر دھونس کا شکار ہیں۔ اسلامی ممالک کو مختلف انداز سے سوچنا اور بیدار ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا چاہیے اور انہیں یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ ہمیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کریں۔

پزشکیان نے نیویارک میں وزیر خارجہ کی جانب سے ہونے والے مذاکرات اور مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عراقچی نے 30 سے 40 وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ وہ اب بھی نیویارک میں موجود ہیں اور معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

پزشکیان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت ہمارے لیے یہ بتانے کا موقع تھا کہ جو لوگ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اعتماد کی بات کرتے ہیں، وہ دنیا میں سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے اور ناقابلِ اعتماد عناصر ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ ان لوگوں سے بات کریں، حالانکہ وہ ان معاہدوں اور دستاویزات پر عمل نہیں کرتے جن پر ہم نے دستخط کیے ہیں۔ اگر ہم بات کریں تو کیا وہ اس پر عمل کریں گے؟ ہم اس لیے بات چیت کرتے ہیں تاکہ دنیا یہ تصور نہ کرے کہ ہم مذاکرات سے خوفزدہ ہیں یا بات چیت نہیں کرنا چاہتے، یا یہ گمان نہ کرے کہ ہم خطے میں بدامنی کے ذمہ دار ہیں۔

پزشکیان نے کہا کہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خطے میں بدامنی پیدا کرنے والے بنیادی عناصر یہی امریکی اور اسرائیلی ہیں۔ وہ اپنی تحریری اور زبانی باتوں کے پابند نہیں ہیں اور ہر روز نئی بات کرتے ہیں۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہمارے مطالبات غیر منطقی نہیں ہیں، کہا کہ ہم صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے دائرے میں جو کچھ ہمارا حق ہے، ہم صرف وہی چاہتے ہیں اور ایسا نہیں ہوگا کہ ان کے ہر مطالبے کے سامنے ہم سر جھکا دیں۔

پزشکیان نے کہا کہ جو لوگ خود دہشت گرد ہیں، وہ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ دہشت گرد ہیں! تاہم امریکی عوام بھی پیدا کیے گئے اس ماحول سے خوش نہیں ہیں۔

News ID 1941689

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha